ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / نانڈیڑ میں 27 نومبرکونکالا جائے گا مسلم ریزرویشن کو لے کراحتجاجی مورچہ؛ لاکھوں کی تعداد میں مسلمانوں سے شرکت کی اپیل

نانڈیڑ میں 27 نومبرکونکالا جائے گا مسلم ریزرویشن کو لے کراحتجاجی مورچہ؛ لاکھوں کی تعداد میں مسلمانوں سے شرکت کی اپیل

Sat, 26 Nov 2016 02:53:19    S.O. News Service

ناندیڑ25نومبر(آئی این ایس انڈیا/ایس او نیوز)مسلم ریزرویشن کو لے کر نانڈیز میں 27 نومبر کو عظیم الشان احتجاجی مورچہ نکالنے کا منصوبہ بنایا گیا ہے جس میں مسلمانوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ لاکھوں کی تعداد میں شریک ہوکر اپنی آواز بلند کریں۔

اس ضمن میں بتایا گیا ہے کہ مسلم ریزرویشن آج مسلمانوں کی پسماندگی کو دورکرنے کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔مسلم ریزرویشن کے معاملہ میں پچھلے ۵۶ سالوں میں حکومت کی کئی کمیٹیوں اورکمیشنوں نے سفارشیں کی ہے۔اس کے علاوہ دستور ہند میں بھی مسلم ریزرویشن کیلئے کافی گنجائش رکھی گئی ہے۔مسلمانوں کی تعلیمی اور سماجی پسماندگی کی بنیاد پر ریزرویشن دیاجاسکتا ہے۔لیکن اب تک حکومتوں نے مسلم ریزرویشن کے معاملہ میں غیر سنجیدہ مزاجی کا مظاہرہ کیا ہے۔اس کے علاوہ مرکزی حکومت کی جانب سے شریعت میں مداخلت کی بھی مسلسل کوششیں ہورہی ہے۔اور مسلم پرسنل لاء کا تحفظ ایک سنگین مسئلہ بنتا جارہاہے۔وہیں دوسری طرف دہشت گردی کے جھوٹے الزاموں میں مسلم نوجوانوں کی بے جاگرفتاریوں کا سلسلہ بھی تھمنے کا نام نہیں لے رہاہے۔اور گؤ نش ہتیہ بندی قانون کی آڑ میں نام نہاد گورکشک مسلمانوں اور دلتوں پر ظلم و بربریت کا مظاہرہ کررہے ہیں۔ان حالات میں ایک منظم احتجاجی تحریک یہ وقت کی اہم ضرورت بن گئی ہے۔اسی ضرورت کے تحت ناندیڑ میں کل جماعتی ایک مرکزی کمیٹی مسلم آرکشن کیرتی سمیتی کے نام سے بنائی گئی ہے۔اس کمیٹی کی نگرانی میں کام جاری ہے۔اس کمیٹی میں سبھی سیاسی،سماجی،دینی جماعتوں کے نمائندوں کو شریک کیا گیا ہے۔تمام مکاتب فکر کے علماء بھی اس میں شامل ہوئے ہیں۔مسلم ریزرویشن،تحفظ شرعیت،بے گناہوں کی رہائی اور گوونش ہتیہ بندی قانون کے نام پر مسلمانوں اور دلتوں پر ہونے والے ظلم کے خلاف ۷۲ نومبر کو ناندیڑ میں ضلعی سطح پر نکالے جارہے خاموش احتجاجی مورچہ کی تمام تیاریاں مکمل ہوچکی ہے۔مورچہ کی تیاریوں کے سلسلے میں پچھلے دیڑ ماہ سے شہر و دیہی مقامات پر مختلف پروگرام لئے جارہے ہیں۔جلسہ،ریلیاں،کارنر میٹنگ اور گروپ میٹنگ کا سلسلہ جاری ہے۔یہ پہلا موقع پر جب ناندیڑ کے مسلمانوں نے متحدہ طورپر مرد وخواتین کے ساتھک بڑے احتجاجی مورچہ کی منصوبہ بندی کی ہے۔مورچہ میں نظم وڈسپلن کو قائم رکھنے کیلئے مختلف کمیٹیاں بنائیں گئے ہیں۔سبھی کمیٹیوں کو ان کی اپنی صلاحیتوں کے تحت ذمہ داریاں تفویض کی گئی ہے۔۷۲ نومبر کو صبح دس بجے مورچہ کی شروعات نیامونڈھامیدان سے ہوگی۔اس کے لئے نئے مونڈھا میدان میں لوگوں کے جمع ہونے اور مورچہ میں شریک ہونے کیلئے منصوبہ بندی کی گئی ہے۔وسیع وعریض مونڈھا میدان کو تین بڑے حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔مغربی حصہ میں خواتین کے رکنے کا انتظام کیا گیا ہے۔اس کے بعد والے حصہ کی جگہ کو طلبہ کیلئے مختص کیا گیا ہے۔اسٹیج کو میدان کے بیچوں بیچ بنایا جارہاہے۔اسٹیج کے سامنے والی جگہ پر علماء وکلاء اور ڈاکٹروں کا نظم کیا گیا ہے۔اسی لگ کر سینئر سٹیزن کیلئے انتظامات کئے گئے ہیں۔جبکہ میدان کے مشرقی حصہ میں عام لوگوں کو ٹہرایاجائے گا۔مردوں اور عورتوں کے داخلے کیلئے الگ الگ گیٹ بنائے جارہے ہیں۔مورچہ میں سب سے آگے خواتین کو رکھا جائے گا۔اس وجہ سے میدان میں جمع خواتین پہلے روانہ ہوگی۔اس کے بعد طلبہ جائیں گے اسی طرح ان کے پیچھے علماء،ڈاکٹر اور وکلاء برادری شامل ہوگی۔اس کے بعد عام لوگوں کو مورچہ میں شریک کیا جائے گا۔ملی،سماجی اور سیاسی جماعتوں کے نمائندے سب سے پیچھے والی صف میں رہے گے۔مورچہ نہایت پرامن طریقے سے نکالا جائے گا۔مورچہ میں کسی بھی طرح کے جھنڈے استعمال نہیں کئے جائیں گے۔سب سے آگے ایک گاڑی رہے گی اس میں صرف ایک جھنڈا رہے گا جو ترنگا جھنڈا رہے گا۔مورچہ میں شریک لوگوں سے خواہش کی جارہی ہے وہ اپنے اپنے سروں پر ٹوپیاں پہنے۔خواتین برقے میں رہے گی۔مورچہ پر کنٹروں کرنے کیلئے ایک ہزار سے زائد والینٹرس کی خدمات حاصل کی جارہی ہیں۔ان میں دو سو سے زائد خواتین والینٹرس بھی موجود رہے گی۔والینٹرس کیلئے د س دس افراد کا ایک گروپ بنایاگیاہے۔اور مورچہ کے روٹ پر جملہ سو سے کے قریب پوئنٹ کی نشاندہی کی گئی جہاں پر والینٹرس موجود رہے گے۔والینٹرس کی شناخت کیلئے انہیں ایک مخصوص رنگ کی ٹی شرٹ اور شناختی کارڈ دئے جارہے ہیں۔مورچہ پر باریکی سی نظر رکھنے کے لئے سو کے قریب کیمروں کی بھی مدد لی جارہی ہے۔مورچہ میں شریک ہونے کیلئے ٹوویلر،تھیری ویلراورفورویلرسے آنے والے مندوبین کی گاڑیوں کی پارکنگ کیلئے مختلف مقامات پر پارکنگ زون بنائے ہیں۔جیسے ہی آپ مورچہ میں شریک ہونے کیلئے پہنچے گے والینٹرس آپ کو پارکنگ کی جگہ کے بارے میں معلومات دیں گے۔مورچہ مکمل طورپر خاموش انداز میں نکالا جارہاہے اس وجہ سے کسی بھی طرح کی نعرہ بازی نہیں ہوگی۔بلکہ خاموشی میں ذکر کرتے ہوئے مورچہ میں شریک ہونا۔مورچہ میں شریک افراد کو پلے کارڈ س دئیں گے جائیں گے جس میں مورچہ کے اغراض ومقاصداورمطالبات کا ذکر کیا گیا ہے۔مورچہ میں شریک ہونے والے افراد کی سہولت کے لئے پینے کا پانی اور طبی امداد کی فراہمی کیلئے ایمبولنس اور ڈاکٹروں کی ٹیم بھی موجود رہے گی۔مورچہ کی شروعات میں چند طلبہ کی تقاریر ہونگی۔جنہیں ریزرویشن،تحفظ شرعیت اور دیگر موضوعات پر تقریر کرنے کیلئے تیار کیا گیا ہے۔اسی طرح مورچہ کے اختتام پر یعنی شیواجی مجسمہ کے پاس لگائے جارہے اسٹیج پر بھی منتخب طلبہ کے خطاب ہونگے۔طلبہ ایک ٹیم میمورنڈم دینے کیلئے دفتر ضلع کلکٹر روانہ ہوگی۔میمورنڈم دینے کے بعد اس کو مجموعہ میں اسٹیج سے پڑھ کر سنایا جائے گا۔اور اسکے بعد مورچہ کا اختتام عمل میں ا ٓئے گا۔جس ڈسپلن کے ساتھ مورچہ میں شریک ہونا ہے اسی ڈسپلن کیلئے اپنے اپنے گھروں کو جانا ہے۔مورچہ کے دوران صاف صفائی کے انتظامات کیلئے بھی والینٹرس کو ذمہ داری دی گئی ہے۔اسی طرح مورچہ کے انتظات کو بہتر کرنے کیلئے مائیک سے اعلانات کئے جائیں گے اورلوگوں کو نظم و ڈسپلن کے بارے میں ہدایتیں دی جائیں گی۔دی جارہی ہدایتوں پرمکمل طورپرعمل کرناہے۔کسی بھی طرح کی بد نظمی نہ ہونے کے پائے اس بات کی ہم سب کو مل کر کوشش کرنا ہے۔مسلم ریزرویشن آرکشن کیرتی سمیتی کے ذمہ داران نے ناندیڑ شہری ودیہی مقامات کے سبھی مسلمانوں سے دردمندانہ اپیل کی ہے کہ وہ اس بار اپنے تمام مصرفیتوں کو بالائے طاق رکھ کر مورچہ میں شرکت کرے۔اس بار ہمیں اپنے وجود کا احساس دلانا ضروری ہوگیاہے۔ملک اور ہماری ریاست کے حالات اس بات کا تقاضہ کررہے ہیں کہ مسلمان اپنی صفحوں میں اتحاد پیداکرے۔آج اگر ہم اس مورچہ میں لاکھوں کی تعداد میں شریک ہونے میں کامیاب ہوتے ہیں تو مستقبل میں ہم اپنے مطالبات بھی منوانے میں کامیاب ہوجائیں گے۔کیونکہ جب ہم اپنی افراد قوت کا مظاہرہ نہیں کریں گے حکومت بھی ہمارے مطالبات کو تسلیم کرنے کیلئے تیار نہیں ہوگی۔ 


 


Share: